سپیڈ بریکر: پولیس ظل شاہ کا قتل پی گئی!میاں حبیب

پنجاب پولیس اپنے کارناموں کی وجہ سے پہلے ہی بڑی شہرت رکھتی ہے ان سے کسی بھی کارنامے کی توقع کی جا سکتی ہے باپ کا کیس بیٹے پر ڈالنا بیٹے کا کیس باپ پر ڈالنا بہو کا ساس پر اور ساس کا کیس بہو پر ڈال دینا ان کے دائیں ہاتھ کا کام ہے ایسی ایسی فنکاریاں دکھاتے ہیں ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے جس معاملہ کو جو چاہے رنگ دے دیں اس کی کہانی بنانا چشم دید گواہ تراشنا۔ملزم کو مدعی ثابت کرنا اور مدعی کو ملزم بنانا ان کے لیے کوئی مسلہ نہیں کسی کو ناجائز مار کر پولیس مقابلہ ظاہر کرنا ہاتھ پاوں باندھ کر مار دینا اور پھر اس کو مقابلہ ظاہر کرنا بھی روٹین کی کارروائی ہے اب تک ڈھٹائی اس حد تک نکھر کر سامنے آگئی ہے کہ پولیس مدعا بھی اپنے اوپر نہیں لیتی ہر پولیس مقابلے کے ڈرامے کا ایک ہی پلاٹ ہوتا ہے کہ ہم ملزمان کو نشاندہی کے لیے لے کر جا رہے تھے کہ ملزمان کے ساتھیوں نے چھڑوانے کے لیے فائرنگ کر دی اور ان کے ساتھیوں کی فائرنگ سے ملزمان ہلاک ہو گئے بندہ پوچھے کہ پولیس وہاں تماشائی بنی ہوئی تھی ملزمان کے ساتھیوں کی ہمیشہ گولیاں ملزمان کو ہی کیوں لگتی ہیں اور آج تک ایسا نہیں ہوا کہ پولیس نے پیچھا کرکے فائرنگ کرنے والوں کو پکڑا ہو ہمیشہ فائرنگ کرنے والے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو جاتے ہیں اور خوش قسمتی سے پولیس والے محفوظ رہتے ہیں پنجاب پولیس کا اسی طرح کی کارروائی کا ایک آرٹسٹک کیس ظل شاہ کی ہلاکت کا ہے پولیس نے ظل شاہ کو پولیس نے گرفتار کر کے وین میں بٹھایا جس کی ویڈیو موجود ہے اس کے ساتھ گرفتار ہونے والے بھی گواہی دے رہے ہیں کہ اسے گرفتار کیا گیا اب ہوا یہ کہ ظل شاہ سائیں ٹائپ جذباتی ورکر تھا وہ پولیس کی گاڑی میں عمران خان کے حق میں نعرے لگا رہا تھا اور شور مچا رہا تھا پولیس والے اسے نعرے مارنے سے منع کرتے اور چپ رہنے کا کہتے وہ اورشور مچاتا پولیس اس پر تشدد کرتی اور بار بار چپ کروانے کی کوشش کرتی اور اسی چپ کروانے کی کوشش میں اسے ہمیشہ کے لیے چپ کروا دیا گیا اور پھر اسے گاڑی سے نیچے پھینک دیا گیا یہاں سے دوسری کہانی شروع ہوتی ہے جن لوگوں نے اسے ہسپتال پہنچایا ان کی شامت شروع ہو گئی ابھی اس واقعہ کو چند گھنٹے گزرے تھے کہ ایک عہدیدار نے اعلان کر دیا کہ ظل شاہ کسی حادثے کا شکار معلوم ہوتا ہے اگلے دن حکمرانوں سمیت پولیس کے اعلی افسروں نے ڈیکلیر کر دیا کہ ظل شاہ تحریک انصاف کے ڈالے تلے آکر ہلاک ہو گیا اور عمران خان نے فوری سازش تیار کی کہ اسے پولیس پر ڈال دو یہاں بہت سارے فنی سوالات پیدا ہوتے ہیں سب سے بڑا ثبوت پوسٹمارٹم رپورٹ ہے جسے کسی صورت جھٹلایا نہیں جا سکتا مقتول کی پوسٹمارٹم کی تصاویر بھی سامنے آچکی ہیں جس کے مطابق مقتول کے پورے جسم پر لاٹھیوں کے تشدد کے نشانات ہیں لیکن گاڑی کے ٹائر تلے کچلے جانے کے نشان نہیں آج کل عمران خان سیکورٹی خطرات کی وجہ سے اپنے قریبی ساتھیوں کو بھی نہیں ملتے لیکن ڈالے کا ڈرائیور بھاگتے ہوئے عمران خان کے پاس پہنچ گیا اور عمران خان نے اسے اپنے ہی ورکر کو مارنے پر شاباش بھی دی پولیس جسے مکمل انویسٹیگیشن تک کوئی حتمی رائے نہیں دینی چاہیے وہ پولیس فیصلہ کر چکی کہ عمران خان نے سازش کی ہے ابھی تو کیس ثابت کرنے کے لیے پولیس نے عمران خان سے وہ ڈنڈے بھی ریکور کرنے ہیں جن سے ظل شاہ پر تشدد کیا گیا پولیس اپنی پریس کانفرنس میں سارا مدعا ڈالے کے ڈرائیور اس کے مالک، یاسمین راشد اور عمران خان پر ڈال چکی اس کا مطلب ہے کہ پولیس نے یہ کیس کھوہ کھاتے ڈال دیا فرض کریں اگر ظل شاہ کی موت ڈالے کے نیچے آکر کچلے جانے سے ہوا ہے تو حادثے میں ہلاکت پر جو جرم بنتا ہے وہ قابل ضمانت جرم ہے پولیس کا فرض ہے کہ وہ قتل کی تفتیش ہر پہلو سے کرے جن پولیس والوں نے اسے گرفتار کیا جن نے تشدد کیا کم ازکم انھیں شامل تفتیش ہی کر لیتے بے شک بعد میں انھیں بے گناہ قرار دے کر فارغ کر دیتے لیکن قانونی تقاضوں کے مطابق انھیں شامل تفتیش تو کیا جانا چاہیے تھا موجودہ صورتحال میں پولیس چونکہ خود پارٹی بن چکی ہے پولیس پر ہلاکت کا الزام ہے اس لیے انصاف کے تقاضوں کے مطابق اصولی طور پر پولیس کو اس کی تفتیش نہیں کرنی چاہیے خاص کر جب مدعی بھی پولیس ہو تو وہ کس طرح اپنے بندوں کو گناہ گار ڈیکلیر کر سکتی ہے اس کیس کی انکوائری کسی عدالتی کمیشن سے کروانی چاہیے یا کم ازکم مختلف فورسز کے نیک نام افسروں کی جے آئی ٹی بنائی جائے جو غیر جانبدار تحقیق کرکے چالان مرتب کرے آج آپ کہیں لکھ کر رکھ لیں یہ کیس دفن کر دیا گیا ہے اس کا کچھ نہیں بنے گا جس طرح عمران خان پر فائرنگ کے کیس جس میں اہک کارکن کی ہلاکت ہوئی اس کو دفن کر دیا گیا سانحہ ماڈل ٹاؤن کو دفن کر دیا گیا اسی طرح بےنظیر ،مرتضی بھٹو کے قتل بھی دفن ہو چکے ہیں اسی طرح ظل شاہ کا کیس بھی پولیس نے متنازعہ بنا کر نہ صرف کئی لوگوں کو خوش کر دیا ہے کئی لوگوں کو خوفزدہ کر دیا ہے اب اس کیس کو سیاسی طور پر استعمال کیا جائے گا اور جن لوگوں کا جوان بیٹا مر گیا ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *